املا نامہ

لفظوں میں فاصلہ اور لفظوں کو ملا کر لکھنا

  1. ڈاکٹر عبد السّتار صدیقی کمیٹی کی تجویزات
  2. مرکبات
  3. مشتقات
  4. سابقہ ”اَن“
  5. سابقہ ”بے“
  6. لاحقے ”بہ“، ”چہ“، ”کہ“
  7. مجھکو، مجھ کو
  8. گا، گے، گی
  9. انگریزی اور یورپی الفاظ

ڈاکٹر عبد السّتار صدیقی کمیٹی کی تجویزات

لفظوں میں فاصلے اور لفظوں کو ملا کر لکھنے کے بارے میں ڈاکٹر عبد السّتار صدیقی کمیٹی کی ان تجویزوں کو مان لینا چاہیے:

  1. (الف) لفظوں کے درمیان فاصلہ رکھا جائے اور یہ فاصلہ یکساں ہو۔ نیز یہ فاصلہ اس فاصلے سے زیادہ ہو جو ایک ہی لفظ کے دو ٹکڑوں کے بیچ میں رکھا جائے۔
  2. (ب) ایک لفظ کے اوپر دوسرا لفظ یا ایک حرف کے اوپر دوسرا حرف کسی حالت میں نہ لکھا جائے۔

البتہ مرکبات کے بارے میں ڈاکٹر عبد السّتار صدیقی کمیٹی کی تجویز کہ ”مرکب لفظ جو دو یا زیادہ لفظوں سے بنے ہوں، آپس میں ملا کر نہ لکھے جاویں، بل کہ ہمیشہ الگ الگ لکھے جائیں“ قابلِ قبول نہیں، کیونکہ دو یا دو لفظوں سے مل کر بننے والے لفظ کئی طرح کے ہیں۔ اس بارے میں مرکبات اور مشتقات میں فرق کرنا ضروری ہے، مرکبات میں استعمال ہونے والے الفاظ صرفیے (free morphemes) ہوتے ہیں، مثلاً خوب صورت، خوش مذاق، گل بدن، دل لگی، ان میں سے ہر لفظ آزادانہ استعمال ہو سکتا ہے، اور الگ سے اپنے معنی رکھتا ہے۔ چنانچہ اصولی طور پر مرکبات میں لفظوں کو الگ الگ لکھنا چاہیے، لیکن مشتقات کا معاملہ دوسرا ہے۔

مشتقات سابقوں یا لاحقوں کے ملانے سے بنتے ہیں۔ بہ، بے، سار، گار، وار، زار، گر، گسار، بان، آن، رساں، ساں، گیں، پن، لا، وغیرہ آزاد صرفیے نہیں، پابند صرفیے (bound morphemes) ہیں۔ یہ تنہا استعمال نہیں ہو سکتے، اور تنہا طور پر اردو میں کوئی معنی نہیں رکھتے، جب الگ سے ان کے کوئی معنی نہیں تو ان کو الگ لکھنے کی سفارش کیسے کی جا سکتی ہے۔ اگرچہ اصولی بات یہی ہے کہ تمام مشتقات کو ملا کر لکھنا چاہیے، لیکن دشواری یہ ہے کہ اردو میں مشتقات کی بعض شکلوں کو ملا کر لکھنے کا چلن نہیں۔ مثلاً شاندار، جہاندار، زمیندار، خریدار، دلدار، تھانیدار تو ملا کر لکھے جاتے ہیں، لیکن ایمان دار، مہمان دار، دکان دار، چمک دار، کانٹے دار، لچھے دار میں دار الگ لکھا جاتا ہے۔ اسی طرح اگرچہ دستگیر، دلگیر، جہانگیر، عالمگیر ملا کر لکھے جاتے ہیں، لیکن آفاق گیر، ملک گیر، دامن گیر، کف گیر میں گیر الگ لکھا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں چلن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ اس بارے میں اصول یوں ہو سکتے ہیں:

مرکبات

مرکبات میں جہاں تک ہو سکے، الفاظ کو الگ الگ لکھنا چاہیے:

لیکن کچھ مرکب الفاظ کو ملا کر لکھنے کا چلن راسخ ہو چکا ہے، مثلاً شبنم، دستخط۔ ان کو اسی طرح لکھنا مناسب ہے۔ پیچیدہ ایک لفظ ہے، اس کو آج کل بعض لوگ ”پے چیدہ“ لکھتے ہیں جو بالکل غلط ہے۔

مشتقات

مشتقات کو اصولی طور پر جہاں تک ممکن ہو، ملا کر لکھنا چاہیے، البتہ جن لفظوں کو الگ سے لکھنے کا چلن ہے، انھیں الگ ہی لکھا جائے:

سابقہ ”اَن“

سابقہ ”اَن“ کو اردو میں الگ سے لکھنے کا چلن ہے:

(پاکستان میں ”ان جان“ کا املا ”انجان“ مروج ہے۔)

سابقہ ”بے“

سابقہ ”بے“ کو زیادہ تر الگ ہی لکھا جاتا ہے:

البتہ کئی الفاظ کو ملا کر لکھنے کا چلن ہے جو صحیح ہے:

لاحقے ”بہ“، ”چہ“، ”کہ“

ڈاکٹر عبد السّتار صدیقی کمیٹی کی سفارش کہ ”فارسی لفظ بہ، چہ، کہ وغیرہ جو کبھی ملا کر اور کبھی الگ لکھے جاتے ہیں، اردو عبارت میں الگ لکھے جائیں“ قابلِ قبول نہیں۔ اس لیے کہ اول تو یہ تمام پابند صرفیے ہیں، دوسرے ان میں سے بعض لاحقے ایسے الفاظ میں آتے ہیں جو جملوں کو ملانے کے لیے کثرت سے استعمال ہوتے ہیں، اور جن کی ملی ہوئی شکلیں اس حد تک چلن میں آ چکی ہیں کہ ان کو بدلنا آسان نہیں۔ اس لیے مناسب یہی ہے کہ انھیں ملا کر ہی لکھا جائے۔ چنانچہ اس بارے میں اصول یہ ہوا: بہ، چہ، کہ لاحقے ہیں اور مشتقات میں البتہ کئی الفاظ میں بے کو ملا کر لکھنے کا چلن ہے جو صحیح ہے:

مجھکو، مجھ کو

بعض اوقات ضمائر کو کلماتِ جار کے ساتھ ملا کر لکھا جاتا ہے، مثلاً مجھکو، تجھکو، اسنے، اسلیے۔ انھیں غلط تو نہیں کہا جا سکتا البتہ انھیں الگ سے لکھنا مرجح ہے یعنی مجھ کو، تجھ کو، اس نے، اس لیے، مجھ سے، ہم پر، جس کا، وغیرہ۔ اسی طرح کے لیے، کے واسطے، جب تک، کیوں کر، جان کر، وغیرہ کو بھی ملا کر نہیں لکھنا چاہیے۔

گا، گے، گی

گا، گے، گی کو افعال کے ساتھ ملا کر نہیں، بلکہ الگ الگ لکھنا چاہیے:

انگریزی اور یورپی الفاظ

انگریزی اور یورپی الفاظ جس طرح اردو میں رائج ہیں، ویسے ہی لکھنے چاہییں، البتہ کوئی نیا لفظ ہو تو اس کے لیے صوتی اجزا کو الگ الگ لکھنا مناسب ہو گا:

سیمینار کو سے می نار لکھنا درست نہیں۔ ہاں مندرجہ ذیل الفاظ کے اجزا کو الگ الگ کر کے لکھنا مناسب ہے:

پولیس کو آج کل بعض لوگ ہندی کی نقل میں پولس لکھتے ہیں جو غلط ہے۔